کیا اُتر آیا کسی غم کا اثر آنکھوں میں
کیوں لیے پھرتے ہو یہ لعل و گہر آنکھوں میں
ہم تو آنے کے لیے کب سے کھڑے ہیں لیکن
تم نے رکھا ہی نہیں ہے کوئی در آنکھوں میں
پیار سے اس کی طرف دیکھ لیا کیا میں نے
وسوسے رہنے لگے بن کے بھنور آنکھوں میں
کب حسیں کوئی اچانک یونہی در آتا ہے
دل کی ہوتی ہے کوئی راہ گزر آنکھوں میں
یوں ہی رونا کہاں آتا ہے کسی کو مقبول
اشک ہوتے ہیں کسی غم کا ثمر آنکھوں میں
